نصرت فتح علی خان: دربار لسوڑی شاہ پر قوالی سے شہنشاہ قوالی تک کا سفر

 21 ستمبر کو دنیا بھر میں الزائمرز کا عالمی دن منایا جاتا ہے اور اس سال بی بی سی نے اسی سلسلے میں ....’میوزک میموریز‘ کے نام سے ایک خصوصی مہم شروع کی ہے جس میں موسیقی کے ذریعے ڈیمینشیا کا شکار افراد کی یادیں لوٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اسی سیریز کے تحت بی بی سی اردو نے پاکستان کی سب سے مقبول آواز کے مالک، استاد نصرت فتح علی خان کے کیریئر کے ابتدائی سالوں کا احاطہ کیا ہے۔


سنہ 1960 کی دہائی میں فیصل آباد کے صوفی بزرگ سائیں محمد بخش عرف لسوڑی شاہ کے دربار پر ایک کم عمر نوجوان نعتیہ اور عارفانہ کلام پڑھ رہا ہے۔ یہ بظاہر کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ لیکن کسی کو کیا معلوم تھا کہ پنجاب کا یہ لڑکا دنیائے موسیقی میں ’شہنشاہِ قوالی‘ بن جائے گا۔


اس کا تعلق تو قوال گھرانے سے ہی تھا۔ اس جیسے کئی نوجوانوں کو بچپن سے ہی سُر، تال اور لے کا نصاب پڑھایا جاتا تھا، وہ چاہیں نہ چاہیں۔

لیکن یہ کم عمر لڑکا اپنے سُروں کی پختگی اور لے کی اٹھان میں اتنی مہارت رکھتا تھا کہ اسے سننے والے اس کے سحر میں کھو جاتے تھے۔


قیام پاکستان سے قبل انڈیا کے شہر جالندھر سے ہجرت کر کے آئے پٹیالہ گھرانے کے اس سپوت کا نام تھا نصرت فتح علی خان۔


یہ بھی پڑھیے

’نصرت فتح علی خان آج بھی ہمارے دلوں میں رہتے ہیں‘...

...'نصرت کب کچھ نیا کر دیں گے کوئی نہیں جانتا تھا'....

'نصرت کی آواز کا نشہ نغمے کے بعد بھی باقی'....

لیکن یہ وہ وقت تھا جب نصرت کو کوئی نہیں جانتا تھا۔ ہاں سب کو یہ ضرور علم تھا کہ وہ اس دور کے معروف قوال استاد فتح علی خان کا بیٹا ہے

نصرت نے بچپن ہی سے موسیقی کو اپنا جنون بنا لیا تھا اور صرف دس برس کی عمر میں ہی وہ طبلہ بجانے پر کمال مہارت حاصل کر چکے تھے۔

سنہ 1960 کی دہائی کے شروع میں ہی اپنے والد استاد فتح علی خان کی وفات کے بعد انھوں نے قوالی کی باقاعدہ تربیت اپنے چچا استاد مبارک علی خان اور استاد سلامت علی خان سے لینا شروع کی اور ستر کی دہائی میں استاد مبارک علی خان کے انتقال کے بعد اپنے قوال گھرانے کی سربراہی کی۔

فیصل آباد کے مشہور جھنگ بازار کے ایک دربار سے اپنے فنی سفر کا آغاز کرنے والے اس ہیرے پر میاں رحمت نامی جوہری کی نظر پڑی جو قیام پاکستان کے وقت سے ہی فیصل آباد میں گراموفون ریکارڈز کی دکان کے مالک تھے۔

ان کے نصرت کے والد استاد فتح علی خان کے ساتھ پہلے سے مراسم تھے

گانے والا تھک گیا، نصرت کا طبلہ نہیں رُکا

میاں اسد جو رحمت گراموفون ریکارڈنگ سٹوڈیو کے مالک میاں رحمت کے صاحبزادے ہیں، نصرت سے متعلق بتاتے ہیں کہ ان کی بے شمار ایسی یادیں ہیں جو آج بھی ان کے ذہن کے دریچوں میں تازہ ہیں۔

وہ بتاتے ہیں کہ ان کے والد میاں رحمت نصرت کے گھرانے کو 1960 کی دہائی سے جانتے تھے۔...

'سب سے پہلے میرے والد کی ملاقات نصرت کے والد فتح علی خان سے ہوئی تھی جو اس وقت فیصل آباد کے مشہور قوال تھے۔'....

وہ بتاتے ہیں کہ 'نصرت سے میرے والد کی شناسائی تو ان کے پجپن سے ہی تھی مگر ستر کی دہائی میں جب انھوں نے باضابطہ طور پر اپنے چچا استاد مبارک کے انتقال کے بعد اپنے قوال گھرانے کی سربراہی سنبھالی تو میرے والد نے نصرت کو بطور فنکار نوٹس کرنا شروع کیا۔‘....

میاں اسد کا کہنا ہے کہ 'آغاز میں نصرت فیصل آباد کے ایک صوفی بزرگ سائیں محمد بخش المعروف بابا لسوڑی شاہ کے دربار پر نعتیہ کلام پڑھتے اور قوالی گایا کرتے تھے۔ ان کی رہائش گاہ بھی اس دربار کے سامنے ہی تھی۔'

میاں اسد کے مطابق استاد نصرت نے قوالی سے قبل طبلہ بجانے کی تربیت حاصل کی تھی اور وہ بہت مہارت کے ساتھ طبلہ بجاتے تھے۔

ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے جو انھوں نے اپنے والد سے سن رکھا ہے میاں اسد بتاتے ہیں کہ 'نصرت جب دس گیارہ برس کے تھے تو ایک قوالی کی محفل میں کوئی طبلہ نواز نہیں مل رہا تھا جس پر نصرت کو طبلہ بجانے کے لیے کہا گيا۔ وہاں انھوں نے ایسی پرفارمنس دی کہ گانے والا تھک گیا لیکن نصرت نہیں تھکے اور سننے والوں پر ....انھوں نے ایک سحر طاری کر دیا۔'

’کلام منتخب کرنا، پڑھنا نصرت نے سکھایا‘....

میاں اسد کا کہنا ہے کہ زمانہ طالبعلمی سے ہی نصرت کے ساتھ رحمت گراموفون ریکارڈنگ سٹوڈیو یا گھر پر ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہو چکا تھا۔ تاہم ’نصرت کے ساتھ باضابطہ طور پر میرا پیشہ وارانہ تعلق سنہ 1992 میں قائم ہوا جب وہ اپنے والد کے کاروبار میں ان کا ہاتھ بٹانے لگے۔‘....

وہ کہتے ہیں' ابا جی سے ان کے قصے اور باتیں سنتے رہتے تھے، ان سے غیر رسمی ملاقاتیں بھی ہوتی رہتی کبھی دکان پر تو کبھی ہمارے گھر پر۔'

میاں اسد کے مطابق ان کے والد میاں رحمت ستر کی دہائی کے آخر اور اسی کی دہائی کے اوائل میں نصرت کو اپنے ریکارڈنگ سٹوڈیو لے آئے جہاں سے انھوں نے اپنی قوالیوں اور غزلوں کی ریکارڈنگ کا آغاز کیا اور پھر ترقی اور شہرت کی منزلوں کو چھوتے گئے۔

میاں اسد بتاتے ہیں کہ رحمت گراموفون میں ریکارڈ کی گئیں نصرت کی چند ابتدائی قوالیوں میں سے ایک 'یاداں وچھڑے سجن دیاں' اور دوسری 'علی مولا علی مولا' تھیں جو دنیا بھر میں بہت مقبول ہوئی۔

وہ بتاتے ہیں کہ اس کے علاوہ اور بھی سینکڑوں قوالیاں ریکارڈ کی گئیں تھیں۔

'ان کی بے شمار ریکارڈنگز کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہو گیا اور وہ ہمارے سٹوڈیو ریکارڈنگز کے لیے آتے رہے۔'...

میاں اسد کے مطابق رحمت گراموفون ہاؤس ریکارڈنگ کمپنی نے نصرت کے ایک سو سے زائد میوزک البمز ریکارڈ کر کے مارکیٹ میں ریلیز کیے۔

جن میں صوفی بزرگ بابا بلھے شاہ کا کلام 'کی جاناں میں کون' سمیت متعدد دوسرے کلام شامل ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ 'اگر نصرت اور رحمت گراموفون کے تعلق اور سفر کو یاد کرنے بیٹھے تو ایک لامتناہی سلسلہ ہے جو چلتا رہے گا

ایسے ہی ایک اور شخص الیاس حسین ہیں جو نصرت کی جوانی سے ان کے شاگرد اور ان کی قوال پارٹی میں بطور پرومپٹ خدمات انجام دیتے آئے ہیں۔

....واضح رہے کہ پرومپٹ وہ شخص ہوتا ہے جو کسی شو یا ریکارڈنگ کے دوران مرکزی قوال کے پیچھے بیٹھے کلام یا غزلوں کی کتاب تھامے قوال کو اگلے مصرعے یاد کرواتا یا بتاتا ہے

58 سالہ الیاس حسین ان کی یادوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں 'ہمارا خاندان فتح علی خان کے گھرانے میں کئی پشتوں سے خدمات کرتا آیا ہے۔ میں سنہ 1975 سے نصر ت فتح علی خان کو جانتا ہوں، تب میں سکول جاتا بچہ تھا اور والد کے ساتھ ان کے گھر کام کاج کرنے جاتا تھا۔ میں ان کا شاگرد تھا، سنہ 1983 سے 1997 میں ان کی وفات تک ان کی قوال پارٹی میں شامل رہا۔'ان کا کہنا ہے کہ 'میرے دادا اور والد بھی ان کے گھرانے کے شاگرد تھے، ہمیں اس گھرانے سے عشق تھا۔'....

وہ بتاتے ہیں کہ دس برس کی عمر سے جب میں نے وہاں جانا شروع کیا تو کچھ عرصے بعد ہی مجھے استاد فرخ فتح علی خان جو راحت فتح علی خان کے والد ہیں نے کہا کہ میں پرومپٹ کا کام کرنا سیکھوں۔ آہستہ آہستہ مجھے استاد نصرت اور فرخ فتح علی خان نے یہ سکھانا شروع کر دیا۔'...

وہ بتاتے ہیں بعد میں ’کلام کو منتخب کرنا اور پڑھنا لکھنا مجھے استاد نصرت فتح علی خان نے سکھایا۔'....

الیاس حسین یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ رحمت گراموفون میں ریکارڈ کروائی جانے والی مشہور قوالی میں سے 'لجپال نبی میرے درداں دی دوا' اور غزلوں میں سے 'یاداں وچھڑے سجن دیاں آیاں انکھیاں چو میہنہ وسدا' بھی دیگر سینکڑوں کے ساتھ شامل ہیں۔

پہلی مرتبہ سولو: ’آؤ خاں صاحب اج سولو ریکارڈ کرو‘

میاں اسد، نصرت فتح علی خان کی پہلی سولو ریکارڈنگ کا واقعہ کچھ یوں بتاتے ہیں کہ ’یہ اسّی کی دہائی کا وقت تھا اور ایک دن استاد نصرت ریکارڈنگ کے لیے حسب روایات رحمت گراموفون وقت سے قبل ہی آگئے اور انتظار کے باوجود، ان کے ہمنوا وقت پر نہ پہنچے تو میرے والد نے پنجابی میں ان سے کہا ’آؤ خاں صاحب اج سولو ریکارڈ کر دے ہاں۔

’اس پر نصرت فتح علی خان پہلے تو پریشان ہوئے مگر پھر میرے والد کے اصرار پر حامی بھر لی اور فوری طور پر سٹوڈیو میں موجود ایک شاعر سے غزل لکھوائی گئی اور انھوں نے پہلی مرتبہ سولو ریکارڈنگ کی ابتدا کی'

میاں اسد کہتے ہیں ان کی ابتدائی سولو ریکارڈنگ میں سے سب سے زیادہ مقبول 'سُن چرخے دی مِٹّھی مِٹھّی کُوک‘ تھی۔

ب یہ غزل مارکیٹ میں آئی تو ان کی گائیکی کو ایک نیا بام عروج ملا۔ بلکہ اس وجہ سے کئی گلوکار اور ہمنوا ہم سے ناراض بھی ہوئے کہ اب خاں صاحب کو شاید ان کی ضرورت نہی

سٹوڈیو میں نصرت کا خاص صوفہ

رحمت گراموفون کے مالک میاں اسد یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ نصرت کا ان کے والد سے تعلق بہت گہرا اور دوستانہ تھا، کیونکہ وہ بات چیت کے شوقین تھے اس لیے اکثر دکان پر آ جاتے تھے

بھاری جسامت کے باعث انھیں وہاں زیادہ دیر بیٹھنے میں مشکل پیش آتی اس لیے میرے بڑے بھائی نے ان کے لیے ایک خاص صوفہ بنوایا تاکہ وہ آرام سے اس پر بیٹھ سکیں۔اس صوفے کی تلاش تو ممکن نہ ہوسکی لیکن اب جو بھی اس صوفے پر بیٹھتا ہوگا وہ نہایت خوش نصیب شخص ہوگامیاں اسد کا کہنا ہے کہ 'نصرت فتح علی خان سے پیشہ وارانہ تعلق کے تجربے کا اگر تجزیہ کروں تو یہ کہہ سکتا ہوں کہ شاید وہ واحد قوال ہیں جن کا کوئی کلام، کوئی غزل ایسی نہیں جو کہیں چل رہی ہو تو موسیقی سننے والا یہ کہہ دے کہ اس کو فارورڈ کریں

لوگ ان کی آواز کو سنتے تھ ان کی ادائیگی کو سنتے تھے۔ انھیں موسیقی سے عشق تھا اور وہ اس متعلق بہت حساس تھے

ان کے دریرنہ ساتھ شاگرد اور ہمنوا الیاس حسین کا کہنا ہے کہ خان صاحب دنیا کے کسی بھی حصے میں خواہ کتنا ہی طویل دورانیے کا شو پرفارم کر کے جب واپس ہوٹل آتے تو ہمیں کہتے کہ میرا ہارمیونیم باجا میرے کمرے میں رکھ دو، ہم اپنی نیند پوری کر کے اٹھتے تو دیکھتے کے وہ اس پر ریاض کر رہے ہی

الیاس حسین کے مطابق وہ سوتے وقت بھی بستر پر اپنا ہارمونیم ساتھ رکھ کر سوتے تھے اور نیند میں بھی ایک انگلی اس پر رکھی ہوتی تھی...

الیاس کا کہنا ہے کہ 'دوران سفر جہاز میں جب ہارمونیم موجود نہ ہوتا تو اپنے سینے یا پیٹ پر ہی انگلیوں سے سروں کی ریاضت کرتے

میاں اسد، نصرت فتح علی خان کی موسیقی اور سروں کی سمجھ کے متعلق ایک واقعہ سناتے ہیں کہ 'ایک بہت ب.ڑی نجی محفل میں جہاں وہ خود بھی موجود تھے نصرت علی خان پرفارم کر رہے تھے اور لوگ ان کی دھنوں اور قوالیوں پر دیوانہ وار جھومنے کے ساتھ ساتھ ان پر ویلوں کی صورت نوٹ نچھاور کر رہے تھے. کہ اچانک انھوں نے اپنے سازندے سے اشارے سے کہا کہ ہارمونیم کے سر ٹھیک نہیں ہیں دیکھوں اس میں کیا مسئلہ ہے جب غور کیا گیا تو اس باجے کی ہوا والی جگہ پر ایک ہزار کا نوٹ پھنسا ہوا تھا جو سُر کو دبا رہا تھا


Comments

Popular Posts

NEW FEATURE OF FACEBOOK FOR UNIVERSITY STUDENT

How to save Pakistani economic (must read)

First Nigerien scientist to work for Nasa